تھی بَلا وہ درد کی جو سب ہنسی ہی کھا گئی
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 103
پسند: 0
تھی بَلا وہ درد کی جو سب ہنسی ہی کھا گئی
چاند دیکھا تھا ہمیں، پھر چاندنی ہی کھا گئی
...
ہم نے جن بے غیرتوں کے پاؤں چُومے تھے کبھی
اُن کے وعدوں پر تو ہم کو مُفلسی ہی کھا گئی
...
ہم کہ عادی ہو گئے تھے ظُلم سہہ کر سو گئے
ہم کو پھر خود ساختہ یہ بے بسی ہی کھا گئی
...
خواب کی دیوار تھی جو راہ میں تھی رُوبرو
ہم کو تِرے ملنے کی تھی بے کلی ہی کھا گئی
...
جبر کے اِس شہر میں ہم اے نقیبؔ اب کیا کریں
شہر کے سب باسیوں کو خامشی ہی کھا گئی
واپس جائیں