اُس نے مجھ کو آج لکھا ہے
تیری آنکھوں سے یہ دنیا
دیکھے مجھ کو مدت گزری
کوئی افق نہ شفق رہی ہے
کوئی فلک نہ دھنک رہی ہے
صبح وہ ہی شام وہی ہے
یہ در اور یہ بام وہی ہے
پھول وہی ہیں، پیڑ وہی ہیں
لیکن رنگ۔۔۔
بے رنگ سے کیوں ہیں؟
وہ ہی سورج، چاند اور تارے
اب کے برس نہیں لگتے پیارے
ہر اک منظر سونا کیوں ہے؟
دیکھنے میں تو وہ ہی سب ہے
وہ پہلی سی بارش کب ہے
اُس نے مُجھ کو آج لِکھا ہے
اپنی آنکھیں بھیجونا !