میرے گھر میں امن، سکون کی باتیں کرتا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 125
پسند: 0
میرے گھر میں امن، سکون کی باتیں کرتا ہے
جانے کیا دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے
۔۔۔
گلیاں چُپ ہیں، قاتل بھی خاموش ہوئے تو کیا
سُن رکھا ہے خون بھی اپنی باتیں کرتا ہے
۔۔۔
چیخ رہا ہے جھوٹ عدالت میں یہ دیکھو تو
کہتا ہے یہ شخص تو سچی باتیں کرتا ہے
۔۔۔
آنکھ یہ ظالم لمبے لمبے خواب سجاتی ہے
دل بے چارہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا ہے
۔۔۔
آج نقیبؔ یہ سچ کی آخری بوند بھی خاک ہوئی
سب کہتے ہیں یہ تو ٹیڑھی باتیں کرتا ہے
واپس جائیں