اپنی ذات میں کھونے کا فن سیکھنا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 121
پسند: 0
اپنی ذات میں کھونے کا فن سیکھنا ہے
مجھ کو پتھر ہونے کا فن سیکھنا ہے
۔۔۔
میں اَوروں کے دُکھ پہ کتنا رویا ہوں
اب تو خود یہ رونے کا فن سیکھنا ہے
۔۔۔
کس کا، کب اور کیسے اور پھر آخر کیوں
ہونے یا نہ ہونے کا فن سیکھنا ہے
۔۔۔
دُکھ کے بعد سُنا ہے سُکھ بھی آتا ہے
مجھ کو آنسو بونے کا فن سیکھنا ہے
۔۔۔
قہر جو ٹوٹ پڑا ہے میری بستی پر
مجھ کو لاشیں ڈھونے کا فن سیکھنا ہے
۔۔۔
میں نے تو تھک ہار کے یہ ہی سوچا تھا
اب کے تنہا سونے کا فن سیکھنا ہے
۔۔۔
اس کو ڈھونڈ پایا تو اب یار نقیبؔ
اپنے زخم پرونے کا فن سیکھنا ہے
واپس جائیں