تیری یادیں بیچ آیا ہوں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 134
پسند: 0
تیری یادیں بیچ آیا ہوں
آج میں آنکھیں بیچ آیا ہوں
۔۔۔
تیری نیند کی خاطر جاناں
اپنی راتیں بیچ آیا ہوں
۔۔۔
بھوکے پیٹ نہ سوئیں بچے
اپنی نیندیں بیچ آیا ہوں
۔۔۔
جب دُنیا یہ تاجر ٹھہری
آج کتابیں بیچ آیا ہوں
۔۔۔
باغی ہو گیا ہوں حرفوں سے
میں بھی سوچیں بیچ آیا ہوں
۔۔۔
یار نقیبؔ ناراض نہ ہونا
تھک کے راہیں بیچ آیا ہوں
واپس جائیں