گھر سے نکلے ہیں تیری یاد کی خوشبو باندھے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 136
پسند: 0
گھر سے نکلے ہیں تیری یاد کی خوشبو باندھے
یاس کی تتلیاں اور خواب کے جگنو باندھے
۔۔۔
ناچتے پھرتے ہیں بے نام سے جذبوں کے ولی
کتنی بے تاب تمناؤں کے گھنگھرو باندھے
۔۔۔
ہائے وہ لوگ جو انصاف سے بے بہرہ ہیں
گھومتے پھرتے ہیں، سینوں پہ ترازو باندھے
۔۔۔
ہم کو لے آئے ہیں میدان میں جنگ کرنے کو
پاؤں میں بیڑیاں اور پشت پہ بازو باندھے
۔۔۔
پیاس بھی کیا ہے نقیبؔ ایسی کہ لب چٹخے ہیں
اس پہ یہ ظلم کہ قیدی بھی لبِ جُو باندھے
واپس جائیں