عجب تو نے تماشا کر دیا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 125
پسند: 0
عجب تو نے تماشا کر دیا ہے
بلا کر پاس تنہا کر دیا ہے
۔۔۔
مری آنکھوں سے دُنیا دیکھتا تھا
اُسی نے مجھ کو اندھا کر دیا ہے
۔۔۔
خود اُس نے بھر لئے چاہت کے کوزے
تو پھر تالاب گندا کر دیا ہے
۔۔۔
میرے اندر کے میٹھے پانیوں کو
ترے لہجے نے کڑوا کر دیا ہے
۔۔۔
دیواریں گر گئی ہیں میرے دل کی
اسے اب میں نے رستہ کر دیا ہے
۔۔۔
نقیبؔ اب چاہتوں کا مول کیا ہے
یہ سودا کتنا سستا کر دیا ہے
واپس جائیں