آج تمہاری سالگرہ ہے
یاد ہے مجھ کو
تیری یاد کی ساری شمعیں روشن کر کے
تنہا بیٹھا سوچ رہا ہوں
ایسی لو کے ساتھ ہی اپنے دل بھی دھڑکا کرتے تھے
یاد ہے تم کو ۔۔۔؟
ہنستے ہنستے، ہم یہ کیک تو مل کے کاٹا کرتے تھے
کتنے عہد و پیماں ہم تم مل کے باندھا کرتے تھے
تجھ کو تو اب یاد نہ ہو گا
لیکن جاناں۔۔۔
میری بھیگی آنکھوں میں وہ منظر آج بھی زندہ ہے
۔۔۔
لیکن اب تو۔۔۔
بھیگی رات کی خاموشی ہے
گھور اندھیرا
میرا کمرہ
افسردہ اور تنہا تنہا
۔۔۔
پھر جانِ جاناں دیکھ
روتے روتے میں نے تنہا کاٹ لیا ہے
تیری سالگرہ کا کیک