بس اتنی سی بات کو سمجھا جا سکتا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 130
پسند: 0
بس اتنی سی بات کو سمجھا جا سکتا ہے
جس کو بھولنا چاہو بھولا جا سکتا ہے
۔۔۔
مانا کہ دیوار ہے بیچ میں پتھر کی
پر دیوار پہ پھول تو رکھا جا سکتا ہے
۔۔۔
لگ سکتی ہے ٹھوکر پیار کے رشتوں سے بھی
گرتے گرتے لیکن سنبھلا جا سکتا ہے
۔۔۔
مٹی سے گر مٹی زخمی ہو سکتی ہے
دریا پہ بھی آنسو پھینکا جا سکتا ہے
۔۔۔
دل کی بات نقیبؔ جی دل تک رہنے دو
اپنی سوچ و فکر کو بدلا جا سکتا ہے
واپس جائیں