جس کو چاہ کے آسماں تک لے گیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 136
پسند: 0
جس کو چاہ کے آسماں تک لے گیا
وہ مجھے وہم و گماں تک لے گیا
۔۔۔
اُس نے مجھ کو درد کا صحرا دیا
میں جسے آبِ رواں تک لے گیا
۔۔۔
میں نے اپنے تِیر جس کو دے دئیے
اور وہ میری کماں تک لے گیا
۔۔۔
چاہتیں تھیں مستقیمِ زندگی
وہ نشاں سے بے نشاں تک لے گیا
۔۔۔
بس کہ اک سجدہِ شب کی دیر تھی
حرفِ توبہ لامکاں تک لے گیا
۔۔۔
اُس کا لہجہ و تکبر، خود سری
سب مجھے کڑوی زباں تک لے گیا
۔۔۔
وہ نقیبِؔ جاں کہ بچھڑا اِس طرح
فکر کا حرفِ نہاں تک لے گیا
واپس جائیں