آنکھ سے اوجھل اُجلے اُجلے کئی منظر ہو جاتے ہیں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 129
پسند: 0
آنکھ سے اوجھل اُجلے اُجلے کئی منظر ہو جاتے ہیں
شیشہ بن کر ملنے والے کیوں پتھر ہو جاتے ہیں
۔۔۔
سچ کا سورج لے کر نکلے کیا تُم کو معلوم نہ تھا
جگنو بھی اِس شہر میں نکلیں تو بے سر ہو جاتے ہیں
۔۔۔
تیری ہنستی آنکھیں مجھ کو خوفزدہ کر دیتی ہیں
جن میں زیادہ خوشیاں ہوں ویران وہ گھر ہو جاتے ہیں
۔۔۔
دیکھ مجھے نہ خوف دلا تُو ہجر کی جلتی راتوں کا
ڈر جب حد سے بڑھ جائے انسان نڈر ہو جاتے ہیں
۔۔۔
بھول گئے ہیں لوگ تجھے تو یار نقیبؔ یہ غم کیسا
جو پتھر دب جائیں اک دن وہ گوہر ہو جاتے ہیں
واپس جائیں