نہ وہ در ہے، نہ دریچہ، نہ وہ چہرہ، نہ گلی
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 138
پسند: 0
نہ وہ در ہے ، نہ دریچہ، نہ وہ چہرہ، نہ گلی
اس برس اس شہر کی ہے شام کتنی اجنبی
۔۔۔
وہ ہوائے غم چلی کہ آشیاں کی کھوج میں
نیند کے مارے پرندے کر گئے ہیں خود کشی
۔۔۔
دیکھنا کہ دل کے در پہ دستکیں دیتا ہے کون
میں ہوں، دیواریں ہیں، شب کا پہر بھی ہے آخری
۔۔۔
توڑ ڈالا اس نے مجھ کو جھوٹے وعدوں کی طرح
میں نے بھی پھر کرچیوں کے لہجے ہی میں بات کی
۔۔۔
کھا گئی ہے دشمنی اُس کی نقیبؔ ہم کو اگر
کر گئی ہے خاک اُس کو دوسروں کی دوستی
واپس جائیں