میری آنکھ میں خواب اُلٹتا رہتا ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 174
پسند: 1
میری آنکھ میں خواب اُلٹتا رہتا ہے
وہ میری نس نس میں بکھرا رہتا ہے
۔۔۔
خاک محبت کرنی ہے ہم لوگوں کو
سوچ کا دامن بھوک میں اُلجھا رہتا ہے
۔۔۔
موم کبھی تو پتھر، پھُول اور خار کبھی
وہ کیسے بہروپ بدلتا رہتا ہے
۔۔۔
چوڑیاں اُس کے بستر پہ یہ کس کی ہیں
پارسا دِن بھر تسبیح پڑھتا رہتا ہے
۔۔۔
آس کٹورے یار نقیبؔ نہیں بھرتے
تو یہ کس کی یاد میں کُڑھتا رہتا ہے
واپس جائیں