ایسا تو کچھ نہ ہوا
میں سمجھتا تھا مِری جان پر بن آئے گی
تُو جو بچھڑا
اک قیامت سی میرے دل پہ گزر جائے گی
تو جو بچھڑا
ایسا تو کچھ نہ ہوا
بس ذرا کسک اُٹھی ، ٹیس اُٹھی ، درد اُٹھا
ایسا لگتا تھا رگ قلب کوئی کاٹ گیا
میں سمجھتا تھا کہ سِمٹا ہوں بکھر جاؤں گا
تو اگر ساتھ نہ ہوگا تو میں مر جاؤں گا
ایسا تو کچھ نہ ہوا
بس ترے جانے سے چمٹی تھی میرے ساتھ جو یاد
خون معمول پر آیا تو بڑی دیر کے بعد
میں سمجھتا تھا کہ دنیا ہے مِری ساتھ ترے
مری میراث میں ہیں یہ حسن ترا ہاتھ ترے
ایسا تو کچھ نہ ہوا
وہ ہی دنیا ہے ، وہی شام و سحر کے منظر
بس کے تنہائی ہے ، وحشت ہے مسلط مجھ پر
نہ مرا ہوں، تو نہ بکھرا ہوں ، نہ دیوانہ ہوا
ایسا تو کچھ نہ ہوا