خُدا حافظ
وہ لڑکی جو محبت میں ۔۔۔
عُروجِ چاہ چاہتی تھی
وہ سب کچھ سونپ کر مجھ کو سمجھ بیٹھی تھی یہ شاید
بدن کی خواہشیں ہی چاہ کی تکمیل ہوتی ہے
مگر چاہت کو لفظوں کے
نہ خواہش کے نہ جسموں کے لبادے کی ضرورت ہے
محبت تو تمنائے وفا کے ساتھ جیتی ہے
محبت تو تفاخر ہے احساس چاہ کا جاناں
لباس آبرو ہی تو معراج حسن چاہت ہے
کہ ... چاہ کا نام لے کر یوں
بدن کی رغبتوں کو تو محبت کیوں کہیں جاناں
بدن کی خواہشیں ہرگز
عروج چاہ نہیں ہوتیں
بس اتنا سا سمجھا کر اُسے میں لوٹ آیا ہوں
محبت تو پوتر ہے ، یہ پاکیزہ سا جذبہ ہے
کہ اے جاناں
خُدا حافظ!