گیت
ڈوبتا دِل تری یادوں کا کنارا مانگے
کتنا نادان ہے تنکے کا سہارا مانگے
...
کھو گیا جس کے لئے ہم نے گنوایا خود کے
اجنبی شہر میں آئے تو مٹایا خود کے
جانے کیوں گزرا ہوا وقت دوبارہ مانگے
...
اس کی زلفوں کی مہک سانس میں اتری جیسے
کہ کہکشاں سی کوئی آنکھ میں بکھری جیسے
کس لئے آنکھ وہی پھر سے نظارہ مانگے
...
تیری یادیں ہیں کہ اِس دِل کا نگر لُوٹتی ہیں
ہجر کا درد ہے ایسا کہ رگیں ٹوٹتی ہیں
پھر سنبھل جائے یہ دل تیرا اشارہ مانگے