کل اک لڑکی مجھ کو ملی ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 102
پسند: 0
کل اک لڑکی مجھ کو ملی ہے
بس ایک سڑک پر چلنا
دیکھ کے مجھ کو ٹھٹک گئی وہ
پاس میں ڈوبی آنکھوں میں بس
ویرانوں کا جنگل سا تھا
نہ جانے کیا سوچ کے میں نے
اس سے کچھ بھی پوچھا نہ تھا
وہ لڑکی جو مکتب میں تھی
سب سے شوخ کھلنڈری لڑکی
وہ تھی جو تصویر کی صورت
خوابوں کی تعبیر کی صورت
جس کی آنکھوں کی خاموشی
کتنی باتیں کر جاتی تھی
جس کی آنکھیں ہر سو گویا
دیپ جلا کے رکھتی تھیں
جس کی گہری آنکھوں میں کچھ ...
خواب نظر آئے
چُپ رہتی تو خاموشی میں بھی ...
گانے سنے گئے۔
جس کے سرخ لبوں پہ گویا
فقرے رقص میں رہتے تھے
۔۔۔
کل اک لڑکی مجھ کو ملی تھی
رنگ و روپ سے عاری چہرہ
مہک بھاری تھی، پلکیں تھیں۔
۔۔۔
جس کی پلکیں جھپک جھپک کے
آنکھوں میں کوئی خواب نہیں تھا
دل کو چھلنی کر جاتی تھیں
پاس میں ڈوبی اُن آنکھوں میں
ہتی تھی تو جگنو جیسے
ویرانوں کا جنگل سا تھا
جلنے بجھنے لگتے تھے
نہ جانے کیا سوچ کے میں نے
اس سے کچھ بھی نہ پوچھا تھا
واپس جائیں