کیا ہُوا جو وہ گیا کُچھ بھی نہیں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 90
پسند: 0
کیا ہُوا جو وہ گیا کُچھ بھی نہیں
بس فشارِ خوں گرا کچھ بھی نہیں
...
بھوک کے ہاتھوں اگر یہ لوگ سب
مر گئے تو کیا ہُوا کچھ بھی نہیں
...
دیں گے گُردے بیچ کے بجلی کا بِل
خامشی کی یہ سزا کُچھ بھی نہیں
...
ہیں مُسلط ہم پہ یہ جنات کیوں؟
لوگوں نے ہے کیا کِیا؟ کچھ بھی نہیں
...
ہیں حمامِ سلطنت میں عُریاں سب
کیسی اب شرم و حیا کچھ بھی نہیں
واپس جائیں