وہ خُدا نہ تھا مگر کیسی قیامت چھوڑ دی
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
وہ خُدا نہ تھا مگر کیسی قیامت چھوڑ دی
خُود تو جانا تھا اُسے خاکِ ملامت چھوڑ دی
...
اب دُعا جینے کی کس کے واسطے مانگیں گے ہم
اُس نے یہ کر دیا ہم سے عداوت چھوڑ دی
...
بس کے اِک دو گام ہی تھی منزلِ اثرِ دُعا
ہم نے یہ کیا سُن لیا اُس نے عبادت چھوڑ دی
...
اِسی میں تو نقصان ہی نقصان تھا ہر ایک پل
ہم نے سچ کی جو بھی کی تھی وہ تجارت چھوڑ دی
...
یہ کسی بھی معجزے سے کم تو نہ تھا اے نقیبؔ
وہ مِلا اور سانس کی ڈوری سلامت چھوڑ دی
واپس جائیں