ابھی تو تولے ہیں پَر ہی فقط اُڑاں کے لئے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 100
پسند: 0
ابھی تو تولے ہیں پَر ہی فقط اُڑاں کے لئے
میں خوف بن گیا جانے کیوں آسماں کے لئے
...
تِری شکست نہیں ہے مجھے قبول کہ تُو
ہے مُبتلائے تردُد مِری کماں کے لئے
...
میں تیری تلخ مزاجی کے صدقے جان مِری
کہ زہر میں نے خریدا ہے اب زُباں کے لئے
...
تِرے مکان سے آگے بھی لوگ رہتے ہیں
تُو گُم ہے سوچ میں اپنے ہی کیوں مکاں کے لئے ؟
...
سَرودِ عشق میں مانا کشش بَلا کی ہے
یہ ساز چھیڑتا ہے لیکن کسی طوفاں کے لئے
...
نقیبؔ سیکھ نہ پایا تُو فن خوشامد کا
یہی بہت ہے تِری عمر کے زیاں کے لئے
واپس جائیں