بدل لیے ہیں جو رستے ، سو کیا کہیں تم سے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 97
پسند: 0
بدل لیے ہیں جو رستے ، سو کیا کہیں تم سے
کہ چھوڑا کس لیے کیسے ، سو کیا کہیں تم سے
...
ہماری نیند میں تم نے خلل نہیں ڈالا
ہمارے ٹوٹے نہ سپنے ، سو کیا کہیں تم سے
...
تمہیں ہے شکوہ کہ دیکھا نہیں تمہیں ہم نے
تمہیں ہی دیکھ کے سُن تھے ، سو کیا کہیں تم سے
...
ہے قتل و خون کا ہر سو یہ شور سا برپا
اٹھے ہیں کتنے جنازے ، سو کیا کہیں تم سے
...
یہ کیسا خوف کھڑا ہے نقیبؔ رستے میں
ہیں لوگ سہمے ہوئے سے ، سو کیا کہیں تم سے
واپس جائیں