سر بازار مرنے دو، پس دیوار مرنے دو
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 99
پسند: 0
سر بازار مرنے دو، پس دیوار مرنے دو
بریدہ سب ہی سر کر دو، لب اظہار مرنے دو
...
یہ دعویٰ امن کا کرنا فقط اک ڈھونگ ہے صاحب
یہ جھوٹے قول رہنے دو، سبھی اقرار کرنے دو
...
خدا را اب نہ دہراؤ پرانی داستانوں کو
میں کہتا ہوں کہانی کے سبھی کردار مرنے دو
...
خودی کے سب مداری گر دکاں اپنی بڑھا جائیں
انا کی کاٹ دو گردن ، کہ اب پندار مرنے دو
...
نقیبؔ امن کو جینے کی خواہش پہ ذبح کر دو
کہ میں جو کر چکا تھا وہ مرا اعتبار کرنے دو
واپس جائیں