میں نہ بولوں گا تو پھر میرا خدا بولے گا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 104
پسند: 0
میں نہ بولوں گا تو پھر میرا خدا بولے گا
دشت تنہائی میں یہ حرف دُعا بولے گا
...
کاٹنا چاہو زباں میری خوشی سے کاٹو
میں نے خوں سے جو جلایا ہے دیا بولے گا
...
تو کہ اسرارِ بغاوت سے کہاں واقف ہے؟
کیا حقیقت ہے تیری اور تو کیا بولے گا
...
اب تیرے جھوٹ پر قدغن تو لگانا ہوگی
رہ گیا کون جو سچ میرے سِوا بولے گا
...
پھیلی ہے بھوک تو ہے بھوک قیامت جیسی
کون ہے تو ہی بتا اس پر بھلا بولے گا
واپس جائیں