آج نہیں تو کل دیکھیں گے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 105
پسند: 0
آج نہیں تو کل دیکھیں گے
کون سا کیا ہے پل دیکھیں گے
...
پہلے خود کو جوڑ تو لیں ہم
پھر تیرا بھی حل دیکھیں کے
...
بیٹھ گئے جو ڈھونڈ کے تجھ کو
کیا ہے پیار کا پھل دیکھیں گے
...
ہم سُلجھا لیں خود کو پہلے
پھر تقدیر کا بل دیکھیں گے
...
آج کا دکھ ہے آج کی اُجرت
کل کے دُکھ کا کل دیکھیں گے
...
مُجھ سے پیڑ کا نام نہ پوچھو
کب آئے گا پھل دیکھیں گے؟
واپس جائیں