کیا ہو رہا ہے شام و سحر سوچتے رہو
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 117
پسند: 0
کیا ہو رہا ہے شام و سحر سوچتے رہو
کب ہو گا ختم خوف و خطر سوچتے رہو
...
تم بھی عجیب لوگ ہو ظلمت کے سائے میں
آئے گا کوئی موسیٰ اِدھر سو چتے رہو
...
سرِ راہ لُٹ رہی ہیں یہ اُمت کی بیٹیاں
ہم ہوں گے کِس کے دستِ نگر سو چتے رہو
...
ہم کو ملا ہے درس محبت بجا مگر
کب کوئی لوٹ جائے گا گھر سوچتے رہو
...
حق چھن گئے ہیں سارے تو پھر تم بھی چھین لو
ور نہ رہو یوں خاکِ بسر سو چتے رہو
...
بیٹھے ہو تھک کے راہ میں چل کے دو گام تم
طے ہو گا کس طرح سے سفر سوچتے رہو
...
تم میں کہاں ہے حوصلہ لڑنے کا اسے نقیبؔ
تم کو تو بس ہے بھوک کا ڈر سوچتے رہو
واپس جائیں