چہرے تو بجا دل ہی تو دیکھے نہیں ہوتے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 109
پسند: 0
چہرے تو بجا دل ہی تو دیکھے نہیں ہوتے
جو لوگ بہت ہنستے ہیں ہنستے نہیں ہوتے
...
جن لوگوں سے ہوں رشتے کبھی ملتے نہیں ہیں
مل جائیں کسی روز تو رشتے نہیں ہوتے
...
ایسا بھی کبھی ہوتا ہے منزل نہیں ہوتی
ایسا بھی کبھی ہوتا ہے رستے نہیں ہوتے
...
دہلیز ملے گر تو نہیں ملتی جبینیں
مل جائیں جو پیشانیاں سجدے نہیں ہوتے
...
انصاف کہاں ہو گا مرے قتل کا لوگو
منصف بھی میرے شہر کے سستے نہیں ہوتے
واپس جائیں