تلاش یار میں نکلے، تلاش یار تک آئے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 125
پسند: 0
تلاش یار میں نکلے، تلاش یار تک آئے
نہ جانے کیسے بے سایہ درو دیوار تک آئے
...
عجب اس نے محبت کی تو یہ بنیاد رکھ دی ہے
زباں ہی کاٹ دی اُس نے جو ہم اظہار تک آئے
...
جسے ہم انسان سمجھتے تھے وہ دینی راہنما نکلا
کہ یوں جوش عقیدت میں روح بیمار تک آئے
...
چلو اک روز آ کے مسئلہ فرقت بھی حل کرنا
کہ کیوں اقرار کی راہ سے رہِ انکار تک آئے
...
نقیبؔ اب غیرت و پندار کی باتیں بھلا کیونکر
کہ یوں اپنوں کے دھتکارے در ِ اغیار تک آئے
واپس جائیں