اُڑتی ہے آگ درد بگولوں کی آڑ میں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
اُڑتی ہے آگ درد بگولوں کی آڑ میں
اب ان کا کیا جو چھپ گئے اشکوں کی آڑ میں
...
رستوں کی دھول کھا گئی قدموں کے سب نشاں
کس کس کو آج ڈھونڈتے آہوں کی آڑ میں
...
اتنا میں جانتا ہوں کہ پتھر کبھی نہ تھا
کچھ سخت ہو گیا ہے وہ رشتوں کی آڑ میں
...
مرجھا گئے ہیں دیکھیے ! کتنا سنبھالتے
رکھے ہوئے وہ پھول کتابوں کی آڑ میں
...
اب کے نقیبؔ دیکھنا یہ نہ چھلک پڑیں
آنسو چھپے ہوئے ہیں جو پلکوں کی آڑ میں
واپس جائیں