میں قفس کو آشیاں کیسے لکھوں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 116
پسند: 0
میں قفس کو آشیاں کیسے لکھوں
جو نمایاں ہے نہاں کیسے لکھوں
...
جاگتے ہیں خواب اندھی آنکھ میں
ان کا میں طرزِ بیاں کیسے لکھوں
...
واعظ نے ہے اب ریاضت چھوڑ دی
اس یقین کو میں گماں کیسے لکھوں
...
اب تو ہر اک ہے خدا کے بھیس میں
میں مکاں کو لامکاں کیسے لکھوں
...
مفلسی ہے چار سو بکھری ہوئی
آسماں کو سائباں کیسے لکھوں
...
خود ہی لی تھی چھوڑ جانے کی قسم
اور خود سے بدگماں کیسے لکھوں
...
تو نقیب اُس کی پہنچ سے دُور ہے
آنا چاہے وہ کہاں کیسے لکھوں
واپس جائیں