اب نہ ملنے کی کبھی بھی استدعا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 101
پسند: 0
اب نہ ملنے کی کبھی بھی استدعا
نقیبؔ اس سے بس ہے اتنی استدعا
...
اُس کی آنکھوں میں یقین تھا ہجر کا
پھینک دی میں نے بھی اپنی استدعا
...
میں بھی تو ہوں دربدر ، ہمراہ مرے
راستوں پہ سر پٹختی استدعا
واپس جائیں