کیا بتلائیں کیا کیا گزرے سال کیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 133
پسند: 0
کیا بتلائیں کیا کیا گزرے سال کیا
بھاگتے دوڑتے خود کو ہے بد حال کیا
...
پچھلے برس کی خاک اُتاری چہرے سے
سال نو کی دھول نے استقبال کیا
...
گزرے برس صیاد نے پھندے ڈالے تھے
اب کے برس تیار نیا اک جال کیا
...
نعرے خالی پیٹ لگائے اوروں کے
جس نے جیسے چاہا استعمال کیا
...
پچھلے برس کیوں ہم نے بھوک ہی کاٹی ہے؟
کٹ جائے گا سر جو یہ ہی سوال کیا
...
مرتے ہیں یہ لوگ تو بھوک سے مر جائیں
وہ ہی کام حکومت نے اِس سال کیا
...
لوگوں نے تو بُوٹ نقیبؔ ہی چاٹے ہیں
اونچا یوں ہے وردی کا اقبال کیا
واپس جائیں