یہ کیا ہوا دلوں کا توازن بگڑ گیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 96
پسند: 0
یہ کیا ہوا دلوں کا توازن بگڑ گیا
کیسے محبتوں کا توازن بگڑ گیا
...
راہزن نے کی تھی دشمنی راہبر کے بھیس میں
رستے میں قافلوں کا توازن بگڑ گیا
...
اک مفلسی کی دھوپ کیا اُتری ذرا سی دیر
پل بھر میں دوستوں کا توازن بگڑ گیا
...
یکدم وفا نواز بھی پتھر کے ہو گئے
کیوں جانے گل رتوں کا توازن بگڑ گیا
...
کروٹ ذرا زمین نے بدلی تو دیکھیے
پل بھر میں سب گھروں کا توازن بگڑ گیا
...
ایسا نہیں! کہ اس نے صدا دی نہ ہو مجھے
شاید کہ رابطوں کا توازن بگڑ گیا
...
اب کے نقیبؔ سوچ کے دھارے بدل گئے
اب یہ کہ سر پھروں کا توازن بگڑ گیا
واپس جائیں