میں تیرا تھا ، میں تیرا ہوں، اُسی عہد و پیماں پہ میں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 92
پسند: 0
میں تیرا تھا ، میں تیرا ہوں، اُسی عہد و پیماں پہ میں
کہ قائم ہوں میری جاناں اسی اپنے بیاں پہ میں
...
نہ تیرا ہاتھ ہاتھوں میں نہ جشنِ محفلِ یاراں
چلا تھا کسی جگہ سے میں کھڑا ہوں اب کہاں پہ میں
...
نظام عدل صادر ہے اگر یہ آسماں سے ہی
تو جی چاہے کہ دے ماروں زمین کو آسمان پہ میں
...
یہاں گونگے، یہاں بہرے ، یہاں اندھے ہی بستے ہیں
کہ تیرے شہر میں ٹھہرا تھا جانے کس گماں پہ میں
...
کسی دن آکے سن لینا، نقیبِؔ غم کا قصہ بھی
لیے بیٹھا ہوں برسوں سے تری خاطر زبان پہ میں
واپس جائیں