آنکھوں میں کیسا دھند کا منظر اتر گیا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
آنکھوں میں کیسا دھند کا منظر اتر گیا
وہ شخص پاس آیا تو آکر گزر گیا
...
کوئی تو زخم اُس نے بھی کھایا ہے منفرد
یہ اُس سے پُوچھیے جو سرِشام گھر گیا
...
نکلا تھا گھر سے جوڑ نے ٹوٹے ہوؤوں کو میں
ان کوششوں میں ٹوٹ کے خود ہی بکھر گیا
...
شامل تھا جرمِ چاہ میں وہ بھی تو دوستو
الزام جرمِ چاہ کا جو مجھ پہ دھر گیا
...
میں تیرا عزم دیکھ کے حیران ہوں نقیبؔ
یہ کہہ کے اپنے آپ ہی دریا اتر گیا
واپس جائیں