مجھے تم مار ڈالو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 107
پسند: 0
مجھے تم مار ڈالو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
میری پگڑی اچھا لو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
...
مجھے دھمکانے سے کیا ہے ، ہے میرا سر ہتھیلی پر
میرا یہ سر جھکا لو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
...
نہ دنیا ہی بنی تم سے ، نہ اپنی عاقبت سنوری
ارے کیا کیا کما لو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
...
میری رگ رگ میں جرات ہے صداقت ہے دیانت ہے
مجھے کیا تم مِٹا لو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
...
ابھی ہیں سرفروشانِ کلیسا کئی قطاروں میں
لہو کتنا بہا لو گے ، چلو پھر دیکھ لیتے ہیں
واپس جائیں