ہر طرف خوف کی بنیاد اُٹھانے والو
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 97
پسند: 0
ہر طرف خوف کی بنیاد اُٹھانے والو
تمہیں بھی مٹنا ہے اک روز مٹانے والو
...
آ ہی جائے گا کسی سمت سے کوئی موسیٰ
بحرِ ظلمت میں یہ طوفان اٹھانے والو
...
خانۂ ضبط میں یوں قید کرو نہ ہم کو
جلنا پڑ جائے نہ تم کو بھی جلانے والو
...
بادباں کھول لئے ہم نے بھی اب دیکھتے ہیں
تم میں دم کہتا ہے گرداب بنانے والو
...
کب تلک اپنا دفاع کرتے رہو گے آخر
وار بھی کر لو فقط جان بچانے والو
...
روشنی پھوٹی تو کچھ بھی نہ دکھائی دے گا
یوں اندھیرے میں کئی تیر چلانے والو
...
اب کے سیلابِ بلا تم کو ڈبو دے شاید
زندگی موت کے پہلو میں بٹھانے والو
واپس جائیں