اب سبھی پندار کے قصے گئے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
اب سبھی پندار کے قصے گئے
اب صلیب و دار کے قصے گئے
...
توڑ دی ہیں سب نے اپنی سولیاں
سچ مرا، اقرار کے قصے گئے
...
جب کتابیں طاق نسیاں ہو گئیں
غافل و بیدار کے قصے گئے
...
آستیں میں ہوتا ہے بارود اب
خنجر و تلوار کے قصے گئے
...
نفرتوں کی داستانیں عام ہیں
اب وفا و پیار کے قصے گئے
...
جھوٹ کیا بولا زباں ہی کاٹ لی
لیجیے اظہار کے قصے گئے
...
گھر نقیب اب چل پڑے ہیں چھوڑ کر
اب در و دیوار کے قصے گئے
واپس جائیں