منزلیں صلیبوں کی راستے صلیبوں کے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 82
پسند: 0
منزلیں صلیبوں کی راستے صلیبوں کے
میرے ساتھ چلتے ہیں سلسلے صلیبوں کے
...
لفظ لکھتا ہوں اگر حرف پڑھتا ہوں اگر
میری سوچ سے جڑے رابطے صلیبوں کے
...
درد و غم و ہجرتیں، جان جا بہانہ ہے
ہم تو پیدا ہی ہوتے واسطے صلیبوں کے
...
کب مٹے تھے یہ کبھی نہ مٹیں گے یہ کبھی
ہم نے خوں سے جو لکھے ضابطے صلیبوں کے
...
چشم جان کی روشنی ، گیسوؤں کے سائے ہوں
ہم پہ پھر بھی گزریں گے حادثے صلیبوں کے
...
ہم نقیبِؔ روشنی ، ہم صدائے جرسِ نو
روکتے ہیں کب ہمیں وسوسے صلیبوں کے
واپس جائیں