ذہنوں میں بھرا دُور اندھیرا نہیں ہو گا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 139
پسند: 2
ذہنوں میں بھرا دُور اندھیرا نہیں ہو گا
یہ شہر بھی جل جاٸے اجالا نہیں ہو گا
رہ جاٸیں گے گلیوں میں کفن پوش اندھیرے
سُورج تو طلُوع ہو گا سویرا نہیں ہو گا
اٸے دیدہ خوش آج اسیری سے نکل جا
کل حسن سے بچنے کو بھی رستہ نہیں ہو گا
گرتی ہے جو دیوارِ انا ہوتا ہے کیا کیا
آ دیکھ کہ تُو نے بھی یہ دیکھا نہیں ہو گا
بن جاٸیں نہ یہ بچھڑی محبت کا حوالہ
گُلدان میں وہ پھول بھی رکھتا نہیں ہو گا
اب غُرفہِ چاہت کو کُھلا رکھنے سے حاصل۔۔۔!
باہر تو کوٸی پیار کا جھونکا نہیں ہو گا
ہر سمت نقیب آج لہُو ارزاں ہے جتنا
اتنا تو کہیں پانی بھی سستا نہیں ہو گا
واپس جائیں