وہ ہی چاہت تو وہی پیار کہاں سے لاٶں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 341
پسند: 0
وہ ہی چاہت تو وہی پیار کہاں سے لاؤں
میں صلیبوں کے علمدار کہاں سے لاؤں
اب تو ہر سوچ پہ ہے ذرد رُتوں کا پہرہ
شہرِ انکار میں اقرار کہاں سے لاؤں
کون اس درد کے یریحو سے نکالے مجھکو
اب میں وہ نعرے وہ للکار کہاں سے لاؤں
بیٹھ کے گرجوں میں روتے ہیں سناٹے تنہا
سویا ہے شہر تو بیدار کہاں سے لاؤں
ہے بھلا کون صلیبوں پہ لٹکنے والا
اب میں وہ جذبہِ اظہار کہاں سے لاؤں
سچ کو دفنا کے نقیب آج چلے تو آٸے
جھُوٹ کے قتل کو تلوار کہاں سے لاؤں
واپس جائیں