لگی جو آگ دُھواں بھی تلاش کر لوں گا
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 174
پسند: 0
لگی جو آگ دُھواں بھی تلاش کر لوں گا
چلا تُو جاٸے جہاں بھی تلاش کر لوں گا
سفر گُریز نہیں ہوں ، ابھی تو چلنا ہے
رُکا تو ذوقِ مکاں بھی تلاش کر لوں گا
ابھی محبتیں تاذہ ہیں ، رُک تو جاٶ ذرا
یعقیں سے نکلوں، گماں بھی تلاش کر لوں گا
تُو مجھ سے لاکھ گریزاں ہو میری جانِ حیا
میں حرفِ شوقِ نہاں بھی تلاش کر لوں گا
ابھی خمارِ غمِ چاہ بھی نہیں اُترا
جو ہوش آٸے ، زیاں بھی تلاش کر لوں گا
تِری آواز سُنوں میں تو پھر قرار آٸے
میں بے نشاں ہوں، نشاں بھی تلاش کر لوں گا
نقیب خود کو میں پہلے تلاش تو کر لوں
میں بولنے کو زباں بھی تلاش کر لوں گا
واپس جائیں