ہم جو پتھر بنا دیے جاتے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 108
پسند: 0
ہم جو پتھر بنا دیے جاتے
ہم کو سجدے ادا کئے جاتے
...
بات دل کی تھی جان جاورنہ
تم تو کب کے بھلا دیے جاتے
...
ہم میں وصف ِ گدا گری نہ تھا
ورنہ تم کو صدا دیے جاتے
...
بس میں ہوتا تو تیری یادوں کے
سب پرندے اڑا دیے جاتے
...
بس کے ہمت نہیں پڑی ورنہ
خط تمہارے جلا دیے جاتے
...
آگ دل میں لگی نقیب تو کیا
پاس رہتے ہوا دیے جاتے
واپس جائیں