یہ جھوٹ موٹ کے منظر ہٹانے ہوں گے مجھے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 94
پسند: 0
یہ جھوٹ موٹ کے منظر ہٹانے ہوں گے مجھے
یہ چلتے پھرتے مقابر گرانے ہوں گے مجھے
...
میں آندھیوں کے مقابل کھڑا ہوں دیکھ تو لو
بچانے سارے ہی اب آشیانے ہوں گے مجھے
...
اگر ہے مر گیا انساں میرے اندر کا
نشان سجدوں کے سب ہی مٹانے ہوں گے مجھے
...
میں پیڑ اوڑھ کے نکلا ہوں ریگزاروں میں
پرندے شاخوں پہ پھر سے بلانے ہوں گے مجھے
...
میرے وطن کی فضاؤں میں رچ گئی نفرت
نجا نے لاشے یہ کتنے اٹھانے ہوں گے مجھے
...
نقیب پاؤں تلے جو یہ گل کچلتے ہیں
انہیں کی راہ میں کانٹے بچھانے ہوں گے مجھے
واپس جائیں