کھوج آیا ہوں اُسے اِس پار سے اُس پار تک
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 90
پسند: 0
کھوج آیا ہوں اُسے اِس پار سے اُس پار تک
رک گیا ہوں بس میں آ کے رسموں کی دیوار تک
...
چل رہا تھا ساتھ میرے ایک مدت سے مگر
آ نہ پایا جانے کیوں ؟ اک لمحہ اظہار تک
...
جانے اس نے طے کیا ہے کیا اذیت کا سفر
وعدہ و اقرار سے اِس لہجہ انکار تک
...
بے وفا ہوتا تو رخصت رو کے نہ ہوتا کبھی
ورنہ وہ تو آگیا تھا سر تا پا اقرار تک
...
اب نقیبؔ اُن سے کوئی شکوہ بھی ہو تو کیا کریں
یہ تو سارا معاملہ تھا بس کہ اک اعتبار تک
واپس جائیں