یہ میری بستی میں شور سا ہے ، بہت دنوں سے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 101
پسند: 0
یہ میری بستی میں شور سا ہے ، بہت دنوں سے
یہاں سے روٹھا ہوا خدا ہے ، بہت دنوں سے
...
بہت دنوں سے چراغ اپنے جلا رہے ہیں
کہ سر پھری یہ چلی ہوا ہے، بہت دنوں سے
...
غبار چھایا ہے فکر وفن پہ تو دل یہ میرے
یہ سانپ سا کوئی پھر رہا ہے، بہت دنوں سے
...
گھسٹ رہی ہیں یہ شہر میں میرے زندہ لاشیں
اور اُن پر رقصاں عجب بلا ہے ، بہت دنوں سے
...
ہیں بے اثر سی نہ جانے کیوں یہ عبادتیں بھی
کہ بے اثر سی ہر اک دعا ہے ، بہت دنوں سے
...
کیسے پکاریں، کیسے صدا دیں، کیسے بلائیں
کہ دل بھی ہم سے خفا خفا ہے، بہت دنوں سے
...
نقیب اُس نے بھی آج ہم سے کیا ہے شکوہ
تم کہاں پر ہو، کیا ہوا ہے؟ بہت دنوں سے
واپس جائیں