سما و ارض میں ربطِ فنا ہے بس یہی کچھ ہے
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 98
پسند: 0
سما و ارض میں ربطِ فنا ہے بس یہی کچھ ہے
کہ ہر شے ہی یہاں محوِ دعا ہے بس یہی کچھ ہے
...
اسی کے در پہ جھکتی ہے جبینِ خرد و حکمت بھی
دلیلِ خرد کو تو یہ عطا ہے بس یہی کچھ ہے
...
عروجِ آدمیت بھی زوالِ آدمیت ہے
وہی تو ہے سدا سے وہ سدا ہے بس یہی کچھ ہے
...
ہمارے درد کو بھی وہ سمجھتا ہے سوا ہم سے
وفا ہے وہ بقا ہے وہ شفا ہے بس یہی کچھ ہے
...
اسی نے آگہی دی ہے نقیب ہم کو تو جینے کی
وہ جس کو سجدہِ عالم روا ہے بس یہی کچھ ہے
واپس جائیں