نہیں معلوم کہ میں وقت کے کس امتحاں میں ہوں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 88
پسند: 0
نہیں معلوم کہ میں وقت کے کس امتحاں میں ہوں
یقیں ہے اس کی چاہت کا کہ پھر بھی گم گماں میں ہوں
...
نجانے کون سمجھے گا یہ راز بندگی میرا
ہوا ہوں خاک سے پیدا شمار آسماں میں ہوں
...
نجانے گتھی کب سمجھے الجھتا جا رہا ہوں میں
کہ عابد لامکاں کا ہوں مگر خود کیوں مکاں میں ہوں
...
یہاں تو روشنی دینے پہ جگنو قتل ہوتے ہیں
کہاں پہ آگیا ہوں میں نجانے کسی جہاں میں ہوں
...
میں خود اپنے مقابل ہوں یہ کیسی جنگ ہے میری
میں کارِ خیر میں ہوں اب کے یا کارِزیاں میں ہوں
واپس جائیں