کیسے کیسے تجربوں کی زد میں ہوں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 114
پسند: 0
کیسے کیسے تجربوں کی زد میں ہوں
آج کل میں وحشتوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
برسے پتھر پھر بھی ہوں میں بے خبر
دوستوں کا دشمنوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
بانٹتا پھرتا ہوں سب کو روشنی
اور خود تیرہ شبوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
جن کو آنا تھا بھلا بیٹھے مجھے
کس لئے میں رتجگوں کی زد میں ہوں
۔۔۔
اب نقیبِؔ گل ہے یا فصلِ خزاں
میں بھی کیسے موسموں کی زد میں ہوں
واپس جائیں