یہ خشک اشجار اُڑتے پتے یہ موسموں کی شکست کے ہیں
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 123
پسند: 0
یہ خشک اشجار اُڑتے پتے یہ موسموں کی شکست کے ہیں
حریمِ جاں کے طواف سارے زیارتوں کی شکست کے ہیں
۔۔۔
میں تھک کے بیٹھا تو یاد آیا کہ کوئی راہ میں بچھڑ گیا ہے
جو مٹ چکے ہیں نشانِ منزل رفاقتوں کی شکست کے ہیں
۔۔۔
یہ جلتی پلکیں، اداس چہرے، سلگتے لب اور خاموش آنکھیں
یہ ساری باتیں یہ سارے منظر محبتوں کی شکست کے ہیں
۔۔۔
یہی متاعِ حیات میری فقط ہیں یادوں کے چند سائے
کہ چبھتے لفظوں کے یہ خزانے مرے خطوں کی شکست کے ہیں
۔۔۔
یہ سب دعائیں ریاضتیں تو اُمیدِ فصلِ بہار تک تھیں
یہ میری آنکھوں کے خالی کاسے عبادتوں کی شکست کے ہیں
۔۔۔
جلا دئیے ہیں خطوط سارے مٹا دئیے ہیں نقوش سارے
کہ ساحلوں پہ جلے سفینے مسافروں کی شکست کے ہیں
۔۔۔
جو گردشِ جان تھم گئی تو بس ایک صدراہا سامنے تھا
نقیبؔ یہ گردِ پا کے حلقے مسافتوں کی شکست کے ہیں
واپس جائیں