فاصلوں میں رابطہ دل کا رہے، کوئی تو ہو
عارف پرویز نقیب
غزلیات
مطالعات: 125
پسند: 0
فاصلوں میں رابطہ دل کا رہے، کوئی تو ہو
جس کا میں نہ ہو سکوں میرا رہے، کوئی تو ہو
۔۔۔
میں کسی بھی راہ پہ نکلوں آسکوں نہ آ سکوں
میری خاطر وہ مگر ٹھہرا رہے ، کوئی تو ہو
۔۔۔
جس کو میں چاہوں نہ چاہوں یہ تو سب اپنی جگہ
نام اس کے ہاتھ پہ میرا رہے ، کوئی تو ہو
۔۔۔
یہ غمِ دُنیا ہے مانا اک مسلسل تیرگی
جو چراغ راہ بنے جلتا رہے، کوئی تو ہو
۔۔۔
از طرف مثلِ وفا بہ دستِ جاناں اے نقیبؔ
اب نہ کوئی خواہشِ فردا رہے ، کوئی تو ہو
واپس جائیں